Press Releases

آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی "منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی"کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سیمینارمیں شرکت۔

سندھ پولیس میوزیئم کراچی میں منعقدہ سیمینار کا اہتمام اقوام متحدہ کے دفتربرائے منشیات و جرائم،حکومت برطانیہ،حکومت پاکستان،اور سندھ پولیس کے تعاون سے کیا گیا۔ 

پانچ سیشنز پرمشتمل سیمینار میں سابق انسپکٹرجنرلز،نمائندہ ایف پی سی سی آئی،کاٹی،آباد،کے سی سی آئی،سینیئر صحافیوں،سماجی رہنماؤں، اساتذہ، محققین،اور دیگر نے شرکت اور گفتگوکی۔ 

سیمینار کا مقصد منظم جرائم کے خلاف سندھ کی سول سوسائٹی،اکیڈمیا اور تاجربرادری کوآگاہی فراہم کرنا تھا۔  

مقررین نے منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی،تاجروں کی بھتہ خوری،قبضہ،عدم تحفظ کے خلاف شکایات،اسٹریٹ کرائم،گاڑی چوری،منشیات اسمگلنگ اور پانی چوری کے خلاف سول سوسائٹی کے کردار،منظم جرائم کے خلاف اور روک تھام میں نوجوانوں، اکیڈمیا، انسانی حقوق کے رہنماؤں کے کردار،اور دیگر موضوعات تفصیلی گفتگو اور اظہارخیال کیا گیا۔ 

سابق آئی جی سعوداحمد نے افتتاحی،جبکہ سابق گورنراسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین اور یو این او ڈی سی کے بیت اللہ خان نے اختتامی کلمات ادا کیے۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا تقریب سے خطاب۔

پاکستان میں منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی کی ترتیب ناگذیر ہے۔آئی جی سندھ

ایسے جرائم کے خلاف،سول سوسائٹیز، اکیڈمیز،سول سروینٹس،تاجربرادری،میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا تعاون اور سپورٹ اشد ضروری ہے۔غلام نبی میمن

ایسے سیمنارز،تقاریب سے معاشی عدم استحکام اور منظم جرائم کے خاتمے کا راستہ و حکمت عملی کاتعین ہوتا ہے۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن

منظم جرائم دراصل کسی گروہ یا جرائم پیشہ افراد کے جتھوں کی ایک منفی سوچ کا نام ہے۔آئی جی سندھ 

جو مختلف نیٹ ورک کے تحت مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں۔آئی جی سندھ 

ایسے جرائم عام شہریوں میں خوف و ہراس کا باعث بنتے ہیں جس سے معاشی عدم استحکام تقویت پاتا ہے۔آئی جی سندھ  

کراچی ایک گلوبل سٹی ہے جہاں سرمایہ کاری کے مواقع زیادہ ہیں۔آئی جی سندھ 

قابل تجدیدتوانائی میں سرمایہ کاری کے لیئے کراچی ایک بہترین شہر ہے۔آئی جی سندھ 

کراچی جو سال 2013 میں ورلڈ کرائم انڈیکس پر چھٹے نمبر پر تھا۔  آئی جی سندھ 

قانون نافذ کرنیوالے اداروں،ایجنسیز، پولیس کی شب وروز محنت اور اشتراک سے اس شہر کا امن واپس آیا۔آئی جی سندھ 

آج ہم ورلڈ کرائم انڈیکس میں دہلی، ڈھاکہ،تہران،کوالالمپور،پیرس،واشنگٹن ودیگر ممالک سے بدرجہہ بہتر ہیں۔آئی جی سندھ 

آج ورلڈ کرائم انڈیکس پر کراچی کا نمبر 19 پلس ہے تاہم گذشتہ سال کراچی 128 ویں نمبر پر تھا۔آئی جی سندھ 

منظم جرائم کے خلاف آج تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔آئی جی سندھ 

اس حوالے سے سی پی ایل سی اور پولیس کا اشتراک انتہائی کارآمد رہا ہے۔آئی جی سندھ 

منظم جرائم،اغواء برائے تاوان الحمداللہ اب اس شہر میں انتہائی کم ہوگئے ہیں۔آئی جی سندھ 

ہم نے بھتہ خوری کےخلاف بھی بہتر کام کیا ہے۔ جوکہ اس شہر کا ایک عام جرم تھا۔آئی جی سندھ 

کرمنل جسٹس سسٹم کی تقویت سے متاثرین کو انصاف جبکہ ملزمان کو سزائیں یقینی ہوتی ہیں۔آئی جی سندھ 

ہم پولیس اسٹیشنز کی سطح پر پبلک سروس میں بہتری لارہے ہیں۔آئی جی سندھ 

شہادتوں کو اکٹھا کرنے اور انویسٹی گیشن جیسے امور کو بہتر کررہے ہیں۔آئی جی سندھ 

ہمارا بنیادی مقصد بہترین اور مؤثر تفتیش کی بدولت ملزمان کی سزاؤں کو یقینی بنانا ہے۔آئی جی سندھ ق 

سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے تھانہ جات و تفتیشی آفیسر کے لیئے براہ راست بجٹ مختص کیا ہے۔آئی جی سندھ 

اسوقت 485 پولیس اسٹیشنز کا اپنا بجٹ ہے۔آئی جی سندھ 

میں جانتا ہوں کہ تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی تاہم اسکے لیئے چھوٹی چھوٹی کاوشیں کرنا ضروری ہے۔آئی جی سندھ 

ڈرائیونگ لائسنس برانچ اسکی ایک بہترین مثال ہے۔آئی جی سندھ 

تین سال قبل اسے جدید اور ماڈرن تیکنیکس سے آراستہ کیا۔آئی جی سندھ 

آج اسکی تعریفیں زبان زد عام ہے اور ہر ادارہ اسکی کارکردگی کا معترف ہے۔آئی جی سندھ 

چھوٹی چھوٹی اصلاحات کا آغاز ہمیں مذید جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے۔ آئی جی سندھ 

ٹریفک ای چالان، ٹریکس کا آغاز بھی ایسی ہی اصلاحات کی بہترین مثال ہے۔آئی جی سندھ 

ابھی ٹریکس کا آغاز کراچی سے کیا ہے تاہم جلد ہی صوبے بھر میں اسکے دائرے کو وسعت دی جائیگی۔آئی جی سندھ 

ٹریفک کی کسی بھی خلاف ورزیوں کے لیئے ٹریکس فعال کردار ادا کریگا۔آئی جی سندھ 

اب ٹریفک پولیس کو مینؤل چیکنگ یا دستی چالان کی اجازت ہر گز نہیں ہے۔آئی جی سندھ 

اس اقدام سے ٹریفک پولیس کے خلاف مختلف قسم کے الزامات،اور منفی تاثر یکسر ختم ہوجائیں گے۔ آئی جی سندھ 

ٹریکس ایک کیمرا بیسڈ ٹیکنالوجی ہے۔آئی جی سندھ 

تھانہ بجٹ کے استعمال کے اختیارات ایس ایچ او کے پاس ہیں۔آئی جی سندھ 

سب انسپیکٹر رینک کا افسر ایس ایچ او لگ سکتا ہے۔آئی جی سندھ 

مالیاتی استحکام اور خود مختاری سے تھانہ کلچر میں نمایاں بہتری آئیگی۔ آئی جی سندھ

سیدسعدعلی
ترجمان
انسپیکٹرجنرل آف پولیس سندھ