Press Releases

سندھ میں گمشدہ بچوں کی تلاش میں غیرمعمولی کردار ادا کرنیوالے پولیس افسران و اہلکاروں کے اعزاز میں تقریب۔

سندھ پولیس کراچی کے 24افسران و اہلکاروں بالشمول خواتین پولیس کوتعریفی اسنادسے نوازاگیا۔
سندھ میں تھانہ کلچر میں مثبت و نمایاں تبدیلی آئی ہے،گمشدہ بچوں کی فوری ایف آئی آر درج،سنجیدہ تفتیش اور بازیابی کے لیئے سنجیدہ کاوشیں کی جاتی ہے۔بانی روشی ہیلپ لائن محمد علی
گمشدہ بچوں کا ڈیٹا بمعہ تصویر ڈیجیٹل پورٹل پر اندراج اور متعلقہ تمام حلقوں کے ساتھ شیئرنگ سے تلاش میں آسانی میسر آگئی ہے۔غلام نبی میمن
 
1.     روشنی ہیلپ لائن کی جانب سے سنٹرل پولس  آفس کراچی میں قائم ڈاکٹر محمد علی شاہ آڈیٹوریم مں  منعقدہ تقریب تقسیم اسناد میں پولیس افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
 
2.     تقریب میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
 
3.     تقریب میں ایس ایس پی سید عرفان علی بہادر،ایس ایس پی جی سی اینڈ ایچ آر شہلا قریشی،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ علینا  راجپر اور ڈی ایس پی جی سی اینڈ ایچ آر ذوالفقار عباسی سمیت 07 انسپکٹرز جن میں 03 خواتین انسپکٹر شامل ہیں کے علاوہ 05 سب انسپکٹرز خواتین،05 اے ایس آئی اور ایک خاتون سمیت 03 ہیڈ کانسٹیبلز کو تعریفی اسناد و ریوارڈ دیئے گئے۔
 
4.     تقریب کے دیگر شرکاء میں ایڈیشنل آئی جی فائنانس/لاجسٹکس/ویلفیئرسندھ،ڈی آئی جیز،انویسٹی گیشن، سی آئی اے،ٹریننگ، کرائم اینڈ انویسٹی گیشن،اے آئی جیز، آپریشنز سندھ،ایڈمن، اور ایس ایس پی ایم اینڈ پی آر نے شرکت کی۔
 
5.     تقریب مں  شریک روشنی ہیلپ لائن کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر محمد علی نے ادارے کے قیام،اغراض و مقاصد اور جملہ خدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
 
6.     گمشدہ/لاوارث بچوں کی تلاش میں پولیس کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنیکے حوالے سے یہ ملکی سطح پر پہلا پروگرام ہے۔بریفنگ
 
7.     سال 2000 میں زینب ریسپانس اینڈ ریکوری ایجینسی کا قیام عمل میں لایا گیا۔بریفنگ
 
8.     ادارے کے قیام سے اب تک 12300 سے زائد گمشدہ بچوں کو انکے والدین سے ملا چکے ہیں۔بریفنگ
 
9.     اب تک 4 ہزار سے زائد پولیس افسران کی تربیت کی جاچکی ہے۔بریفنگ
 
10.روشنی ہیلپ لائن کیساتھ سندھ پولیس نے ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر کام کیا ہے۔بریفنگ
 
11.                        پولیس اسٹیشنز میں تعینات تربیت یافتہ،پیشہ ورانہ اور خوش اخلاق عملہ بچوں کی تلاش میں مددگارثابت ہوتا ہے۔بریفنگ
 
12.سال 2024 تک پورے ملک میں گمشدہ بچوں کی تعداد 3070 تھی۔بریفنگ
 
13.اسوقت ملک بھر میں گمشدہ بچوں کی تعداد صرف 15 ہے۔بریفنگ
 
14.باقی تمام گمشدہ بچوں کو پولیس کی مدد سے ان کے والدین تک پہنچادیا گیا ہے ۔بریفنگ
 
15.آئندہ سال ایسی تقریب کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے دیگر شہروں میں تقاریب کا انعقادکیاجائیگا۔بریفنگ
 
16.روشنی ہیلپ  لائن کا ٹال فری نمبر 1138 چوبیس(24)گھنٹے مسلسل کام کرتا ہے۔بریفنگ
 
17.روشنی ہیلپ لائن اور سندھ پولیس کا گمشدہ بچوں کی تلاش کے حوالے سے تعاون اور مدد کا رشتہ سالوں پر مشتمل ہے۔آئی جی سندھ
 
18.روشنی ہیلپ لائن کی جانب سے سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہا جانا میرے اور ادارے کے لیئے باعث اطمینان ہے۔آئی جی سندھ
 
19.ایف آئی آرز کے فوری اندراج،تھانہ جات میں عوام دوست پولیسنگ جیسے خیالات کے اظہار پر میں روشنی ہیلپ لائن کا مشکور و ممنون ہوں۔غلام نبی میمن
 
20. آئی ٹی کی جانب سے گمشدہ بچوں کے حوالے سے فراہم کردہ پورٹل کے باعث روشنی ہیلپ لائن اور سندھ پولیس کا ڈیٹا یکساں اور ایک جیسا ہوگیا ہے۔آئی جی سندھ
 
21.سندھ حکومت کی جانب سے جلد تمام "ون اسٹاپ فیسیلی ٹیشن سینٹرز" فعال ہوجائیں گے۔آئی جی سندھ 
 
22. اچھی کارکردگی پر پولیس کی تعریف و توصیف ایک اچھا کام ہے۔آئی جی سندھ
 
23. گمشدہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو تلاش کرنا اور انھیں انکے والدین سے ملانا بہت بڑا کام ہے۔آئی جی سندھ
 
24. بچوں کی گمشدگی سےاطلاع میں بذات خود پولیس اور روشنی ہیلپ لائن کو دیتا ہوں۔غلام نبی میمن
 
25. اطلاعات کی شیئرنگ کا مقصد کسی نہ کسی طرح گمشدہ بچوں کو انکے والدین تک پہنچانا ہے۔آئی جی سندھ
 
26. پولیس گمشدہ بچوں کی تلاش میں تیکنیکس اور وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔آئی جی سندھ